پیر 17 اگست 2026 - 19:07
معاشرے کے مسائل کا حل علمی اور تخصصی گفت‌وگو کی بنیاد پر ہونا چاہیے: حجت‌الاسلام علی رضا پناہیان

حوزہ/ حجت‌الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے معاشرے میں آزادانہ فکر اور علمی گفت‌وگو کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام صرف احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کو غوروفکر، مطالعہ، مشاورت اور دوسروں کے افکار سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتا ہے، لہٰذا معاشرتی مسائل کا حل بھی علمی اور تخصصی گفت‌وگو کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے معاشرے میں آزادانہ فکر اور علمی گفت‌وگو کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام صرف احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کو غوروفکر، مطالعہ، مشاورت اور دوسروں کے افکار سے استفادہ کرنے کی دعوت دیتا ہے، لہٰذا معاشرتی مسائل کا حل بھی علمی اور تخصصی گفت‌وگو کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے ٹی وی پروگرام ’’سمت خدا‘‘ میں کہا کہ معاشرے کو ایک طرف ظاہری روشن فکری اور دوسری طرف تحجر سے بچنا چاہیے۔ ان کے بقول اختلافِ رائے اگر علمی اور منطقی دائرے میں ہو تو فکری ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت میں بھی اصحاب سے مشاورت اور مختلف آرا سننے کی مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علما بھی اپنی سابقہ معلومات تک محدود نہ رہیں بلکہ مسلسل مطالعہ، تحقیق اور نئے افکار سے استفادہ کرتے رہیں، کیونکہ نئے سوالات اور افکار سے دوری انسان کو فکری خود پسندی اور تحجر میں مبتلا کرسکتی ہے۔

حجت‌الاسلام والمسلمین پناہیان نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے سماجی و حکومتی نظریات کے علمی مطالعے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی دینی شخصیت کے افکار کا تحقیق اور تنقید کے ذریعے جائزہ لینا بے ادبی نہیں، بلکہ علمی تحقیق کا حصہ ہے۔ اسی طرح اقتصادی مسائل کے حل کے لیے بھی اسلامی نظامِ معیشت کو باقاعدہ علمی انداز میں سمجھنے اور عملی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے علمی اختلافات کو سیاسی رنگ دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسائلِ تخصصی کو علم، تجربے اور تحقیق کی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے۔ حوزہ اور یونیورسٹی کے علما کو معاشرے کے حقیقی مسائل کے بارے میں سوالات کا سامنا کرنا اور ان کے قابلِ عمل حل پیش کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو بھی مختلف علما اور ماہرین کے درمیان درست انتخاب کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔ دین میں ’’عوام‘‘ سے مراد ایسے افراد نہیں جو سوچنے اور تشخیص کی ذمہ داری سے آزاد ہوں، بلکہ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق علم و آگہی حاصل کرنی چاہیے۔

استاد پناہیان نے تاکید کی کہ دین کو عالمانہ اور روشن فکری کے ساتھ سمجھا جائے اور معاشرے میں مطالعہ، تحقیق، سوال، گفت‌وگو اور باہمی تبادلۂ خیال کی ثقافت فروغ دی جائے۔ پروگرام کے اختتام پر ان کی کتاب ’’انتظار؛ عامیانہ، عالمانہ، عارفانہ‘‘ بھی متعارف کرائی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha